وہ تب ملے گا جب اپنی خبر نہ رکھئے گا

رہِ طلب میں امیدِ شجر نہ رکھئے گا
وہ تب ملے گا جب اپنی خبر نہ رکھئے گا
جھُکانا چاہے اگر سر تَو کاٹ کر لے جائے
کسی کے قدموں میں خود جا کے سر نہ رکھئے گا
ہمیشہ سر پہ بٹھائے گی بزمِ بے ہُنَراں
بس آرزوئے متاعِ ہنر نہ رکھئے گا
حَسین دل بھی ضروری ہے حُسنِ پیکر میں
نظر نہ آئے تَو حُسنِ نظر نہ رکھئے گا
یہ دردِ عشق دوا بھی ہے درد بھی، ضامنؔ
اِس ابتلا میں کبھی چارہ گر نہ رکھئے گا
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s