وہ بے حِجاب رَہے لُطفِ عام کَرتے ہُوئے

کَہیِں گُزَرتے کَہیِں پَر قَیام کَرتے ہُوئے
وہ بے حِجاب رَہے لُطفِ عام کَرتے ہُوئے
اُنہیَں تَو اِس پہ بھی احسان کا گُمان رَہا
ہَر ایک ظُلم و سِتَم میرے نام کَرتے ہُوئے
مِری جبیں پَر اُسے حَسرتِ شِکَن ہی رَہی
میں اَنجُمَن سے اُٹھا احترام کَرتے ہُوئے
ہَر ایک مَوجِ حَوادِث کو فِکر تھی میری
مِزاج پُوچھنے آئی سَلام کَرتے ہُوئے
نگاہِ یار نے کیا کُچھ نہ جانے بھانپ لِیا
مُجھے خَموشی سے اپنی کَلام کَرتے ہُوئے
نزاعِ رُوح و بَدَن میں گِھرے رَہے ضامنؔ
تمام عُمر کَٹی ایک کام کرتے ہُوئے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s