نقوشِ ماضی، متاعِ رفتہ، بہ طاقِ نسیاں سجا رہا ہوں

سیاحتِ کوئے گلعذاراں میں جو بھی سیکھا بھُلا رہا ہوں
نقوشِ ماضی، متاعِ رفتہ، بہ طاقِ نسیاں سجا رہا ہوں
میں مد و جذر نَفَس رہا ہوں کبھی قرارِ نظر کسی کا
بہت سہانی رُتیں تھیں جب میں دلوں کی دھڑکن بنا رہا ہوں
کسی کی دُھن میں مگن ہوں دنیا مجھے شکارِ جنوں نہ سمجھے
یہ ایک ہی نقش جو مسلسل بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوں
مٹا سکیں تو مٹا دیں بالکل بیاضِ دل سے وہ نام میرا
پر اُس حقیقت کا کیا کریں گے وہ دل میں جو میں بسا رہا ہوں
خبر کرو بجلیوں کو کوئی کہ میری ہمّت جواں ہے اب بھی
ابھی کہاں سے ہے مات بازی میں پھر نشیمن بنا رہا ہوں
نکل ہی آ ئے گا اِک نہ اِک دن مسائلِ زیست کا کوئی حل
سکون فی الحال تو یہی ہے گذر رہی ہے نبھا رہا ہوں
نہ جانے کس چیز کا تھا دھڑکا کھٹک رہا تھا وجود میرا
رہو سکوں سے اب اہلِ دنیا یہ لو میں دنیا سے جا رہا ہوں
حضورِ داور کھڑا ہوا ہوں مصر ہوں سننے پہ فردِ عصیاں
بہت سی نظریں یہ کہہ رہی ہیں میں سوئے فتنے جگا رہا ہوں
میں جاتے جاتے بھی اس جہاں سے رہا ہوں مصروفِ کار ضامنؔ
بلندیٔ دوشِ اقرباء سے مآلِ ہستی دکھا رہا ہوں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s