معجزہ ہے کہ جیے جاتا ہُوں

زہرِ غم روز پیے جاتا ہُوں
معجزہ ہے کہ جیے جاتا ہُوں
پَڑ گئی ہے مجھے کچھ عادَت سی
خُود کو اِلزام دِیے جاتا ہُوں
زخم پَر زخم لگے جاتے ہیں
اُس کا احسان لیے جاتا ہُوں
مشغلہ ہے یہی تنہائی کا
گفتگو اُس سے کیے جاتا ہُوں
کتنی خُوش مجھ سے ہے دُنیا ضامنؔ
ہونٹ اُور زخم سِیے جاتا ہُوں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s