مرا جواب بھی اپنے سوال میں رکّھا

ہر ایک چیز کو اُس نے خیال میں رکّھا
مرا جواب بھی اپنے سوال میں رکّھا
وہ پاس تھا تو یہ سب بھی عزیز تھے مجھ کو
وگرنہ کیا ہے بھلا ماہ و سال میں رکّھا
خلوصِ عشق تَو حسنِ عروج ہی پہ رہا
عروجِ حسن کو پھر کیوں زوال میں رکّھا
تری نظر کا مرے دل سے کھیل ہے سارا
حقیقتاً ہے نہ کچھ سُر نہ تال میں رکّھا
سنبھال سکتیں یہ کیا وسعتِ خیال مری
حقیقتوں کو بھی میں نے خیال میں رکّھا
عجیب حسنِ ارادت ہے تجھ سے ضامنؔ کو
ترا ہر ایک سخن نیک فال میں رکّھا
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s