محشر سے قبل کوئی نیا بندوبست ہو

ترمیمِ عہد نامہِ روزِ اَلَست ہو
محشر سے قبل کوئی نیا بندوبست ہو
پہلے وہ عصرِ حاضر و ماضی کرے بَہَم
ایسے کہ ہست بود نہ ہو، بود ہست ہو
ہر احتیاط حُسن پہ لازم قرار پائے
فطرت ہو عشق کی کہ وہ موقع پَرَست ہو
جب ہو اَنائے حُسن کے حُسنِ اَنا کی بات
ہو فتحِ عشق گرچہ بظاہر شکَست ہو
لگتا ہے جیسے سُن کے "اَلَستُ بِرَبّکُم”
ضاؔمن ہنوز وردِ "بَلیٰ” میں ہو، مست ہو
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s