محبّت ہے اُسے پر مانتا نئیں

نہیں یہ بھی نہیں کہ جانتا نئیں
محبّت ہے اُسے پر مانتا نئیں
نجانے کب سے دل میں رہ رہا ہے
مگر اب تک مجھے پہچانتا نئیں
بَنا میں بھی ہُوں اِس مٹّی کا لیکن
میں اِس مٹّی میں خود کو سانتا نئیں
بہت دشمن ہے میرا چرخِ گردوں
مگر میں اس کو کچھ گردانتا نئیں
محبّت تَو اشاروں کی زباں ہے!
تُمہیں ہوتی تَو میں پہچانتا نئیں ؟
سُکونِ و چیَن اَگَر بَستی میں مِلتے
میں خاکِ دَشت و صحرا چھانتا نئیں
فریبِ آگَہی مَت کھانا ضامنؔ
سُکونِ دِل کو یہ پہچانتا نئیں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s