مت ذکرِ بہاراں مجھ سے کرو میں باغ سے ہو کر آیا ہُوں

اب صحنِ چمن میں کچھ بھی نہیں ہر چیز کو رو کر آیا ہُوں
مت ذکرِ بہاراں مجھ سے کرو میں باغ سے ہو کر آیا ہُوں
شُہرہ تھا بہت صنّاعی کا چرچا تھا بہت گُل کاری کا
دیکھا تَو لہو کے چھینٹے تھے اشکوں سے جو دھو کر آیا ہُوں
اُمّید کو زیرِ خاک کِیا دامانِ تمنّا چاک کِیا
میں خُونِ جگر قطرہ قطرہ لَڑیوں میں پرو کر آیا ہُوں
رہبر جو مِلے رہزن نکلے منزل جو چُنی منزل ہی نہ تھی
اُور زادِ سفر کا بھی یہ ہُوا جو تھا بھی وہ کھو کر آیا ہُوں
جس شخص کو بھی دیکھا ضامنؔ وہ غرقِ شکوہِ ماضی تھا
ہر ایک کِرَن مستقبل کی ماضی میں ڈبو کر آیا ہُوں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s