مبادا طنز ہو یہ بھی سو حَشر اُٹھایا نہیں

کسی کو زَخم دِکھا کَر میں مُسکرایا نہیں
مبادا طنز ہو یہ بھی سو حَشر اُٹھایا نہیں
کِسے خَبَر کہ اَبھی کِتنی دُور ہے مَنزِل
اَبھی تَلَک تَو کوئی سَنگِ میِل آیا نہیں
سَبھی ہیں یُوں تَو مِرے دِل کے بوجھ سے واقِف
کِسی نے بارِ اَمانَت مَگَر اُٹھایا نہیں
درُست ہو گا تِرا دعویِٰ مَسیِحائی
خُدا کا شُکر کَبھی ہَم نے آزمایا نہیں
فَصیِلِ شہرِ جنوں پَر میں مُنتَظِر ہی رَہا
خِرَد کے مارے ہُوؤں میں سے کوئی آیا نہیں
کوئی سَبَب تَو ہے! چہرے اُتَر گئے سارے
اَبھی تَو میں نے کِسی کو بھی کُچھ بَتایا نہیں
ہیں میرے عِلم میں مَجبُوریاں مَسیِحا کی
جبھی تَو اُس کا رَوَیّہ اُسے جَتایا نہیں
سَبھی ہیں قافلہ سالار قافلے میں تِرے
مُسافِر اِس میں بَجُز تیرے کوئی پایا نہیں
ہَر ایک دَردِ حَیات آ کے کہہ گیا ضامنؔ
کہ تیری طَرح کِسی نے گَلے لَگایا نہیں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s