قیامت میں اَور اِک قیامت مچا دوں

مِلے زِندگی سے جو تحفے دِکھا دُوں
قیامت میں اَور اِک قیامت مچا دوں
زمانے سے اَپنا تَعارُف کَرا دُوں
ہَر اِک زَخم دِیوارِ دِل پَر سَجا دُوں
نہ جانے مِزاجِ گِرامی ہیں کیسے
میں نوحہ پَڑھوں یا قَصیِدہ سُنا دُوں
مُکَمَّل سے شاید کہ شَرمِندَگی ہو
تُمہیَں آؤ آدھی کَہانی سُنا دُوں
فَقیِروں کی بَستی سے آیا ہُوا ہُوں
تُمہیَں کیا میں جِس دَر پہ چاہُوں صَدا دُوں
یہ دِل اِحتیاطَوں کا مارا ہُوا ہے
کئی بار سوچا کہ سَب کچھ بَتا دُوں
وہ خاموش بیٹھے ہیں میں کہہ رہا ہُوں
یہ تَصویر دے دو میں دِل میں لَگا دُوں
اِشارے کِنائے سِکھائے ہیں کِس نے
کَہو تَو میں سَب اَپنے اِحساں گِنا دُوں
غَزَل مَت سُنانا اَبھی اُن کو ضامِنؔ
میں شعروں میں خُونِ جِگَر تَو مِلا دُوں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s