صیّاد کو گلشن سے نکلنا ہی پڑے گا

طاقت کے توازن کو بدلنا ہی پڑے گا
صیّاد کو گلشن سے نکلنا ہی پڑے گا
یہ راستہ منزل کو تَو جاتا ہی نہیں ہے
اب اَور کسی راہ پہ چلنا ہی پڑے گا
یہ آگ لگائی بھی تَو ہے آپ نے صاحب
اِس آگ میں اب آپ کو جلنا ہی پڑے گا
ہاں تیری تمازت سے بہت تنگ ہیں ہم لوگ
خورشیدِ تظلّم! تجھے ڈھَلنا ہی پڑے گا
سیلابِ لہو چاہیے تطہیرِ چمن کو
اب خون کے قطروں کو مچلنا ہی پڑے گا
وہ لوگ جو خوں پی کے تنومند ہُوئے ہیں
اُن لوگوں کو اب خون اُگلنا ہی پڑے گا
یہ زہرِ رعونت جو تری جان کا ہے روگ
اُگلا نہیں جاتا تَو نگلنا ہی پڑے گا
منزل کی طرف پُشت اگر کر کے چلیں گے
ضامنؔ! کفِ افسوس تَو مَلنا ہی پڑے گا
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s