شعورِ ذات کی منزل کے انتظار میں ہیں

جو لوگ دار و سلاسل کے انتظار میں ہیں
شعورِ ذات کی منزل کے انتظار میں ہیں
نظر میں کوئی نہیں ہے ابھی قد و قامت
وہ اپنے مدِّ مقابل کے انتظار میں ہیں
سہولیات و لوازم سبھی مہیّا ہیں
ہم اب تو جرأتِ قاتل کے انتظار میں ہیں
وہ صبر و چین و سکون و قرار لُوٹ چکے
قرینہ کہتا ہے اب دل کے انتظار میں ہیں
سفر کا شوق ہے جن کو نہ زادِ راہ کی فکر
سنا یہ ہے کہ وہ منزل کے انتظار میں ہیں
فرازِ دار ہے انعام اہلِ علم یہاں
یہ کاخ و کُو کسی جاہل کے انتظار میں ہیں
جنہیں تمیز نہیں دوست اَور دشمن میں
وہ ایک جوہرِ قابل کے انتظار میں ہیں
یہ معجزہ ہے کہ ہم سب سکون سے ضامنؔ!
بھَنوَر میں بیٹھ کے ساحل کے انتظار میں ہیں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s