شام

میانِ روز و شب چھوٹی سی بستی
بھلا میں کیا ہُوں اُور کیا میری ہستی
تھکی ماندی ،امیدِ صبحِ فردا
سفر سے رایگانی کے بالآخر
مری آغوش میں سر اپنا رکھ کے
اَبھی فردا سے بالکل بیخبر ہے
اور اِس امّید کے معصوم رُخ پر
جمی ہیں مستقل میری نگاہیں
اَگر کچھ دیر کو یہ آنکھ کھولے
کسی طرح سے میں اِس کو بتادوں
مگر اِس کو یقیں آئے نہ آئے
ابھی اِک اور بھی منزل کڑی ہے
نئی امّید کے فردا سے پہلے
ابھی تَو ایک پوری شب پڑی ہے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s