سکونِ قلب گریزاں ہے ہر فغاں خاموش

ترے اسیرِ جفا کی ہے داستاں خاموش
سکونِ قلب گریزاں ہے ہر فغاں خاموش
تری جفا پہ بھلا کس کو جراتِ فریاد
زمیں تھی محوِ تماشا و آسماں خاموش
شبِ فراق کے ماروں کو دیکھ کر مایوس
چلا فَلَک سے ستاروں کا کارواں خاموش
بیانِ غم پہ مرے سب رہے ترے ہمساز
ہر ایک گوش بر آواز و ہر زباں خاموش
شکست و فتح و نشیب و فراز کے ہمراز
یہ زخمہائے جگر مثلِ کہکشاں خاموش
جفائے یار لباسِ وفا میں تھی ملبوس
سو لے کے آگئے ضامنِؔ یہ ارمغاں خاموش
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s