سَو کھوٹ جہاں تیرے اِک بات کھری میری

کھَلتی ہے تجھے دنیا کیوں ہم سَفَری میری
سَو کھوٹ جہاں تیرے اِک بات کھری میری
سُنتا ہُوں سُکوں سے ہیں سب اہلِ فَلَک جب سے
سیکھی ہے دُعاؤں نے بے بال و پَری میری
رونق ہیں سب اِس بزمِ افکار و حوادث کی
سرمستی و سرشاری آشفتہ سری میری
روتا ہے ہر اِک دریا آلام و مصائب کا
رَستا ہی نہیں دیتی یہ بے خَبَری میری
ہر دُکھ ہے یہاں سُکھ سے، ہر زخم سُکوں سے ہے
آ کر تو کبھی دیکھو تم چارہ گری میری
یہ گردشِ روز و شب کیوں اِتنی پریشاں ہے
کیا اِس نے نہیں دیکھی ہے در بَدَری میری
گلشن کا بھروسا ہے نے شاخ و نشیمن کا
لے آئی کَہاں مجھ کو کوتہ نظری میری
آنکھوں کا تحیّر بھی پہنچا نہ سکا دل تک
کس کام کی ہے ضامنؔ! یہ نامہ بَری میری
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s