سَمَجھ رہے ہیں جو کرنے تھے کام کر آئے

لگا کے پیڑ نہ جن میں کبھی ثَمَر آئے
سَمَجھ رہے ہیں جو کرنے تھے کام کر آئے
دُعا کا کیا ہے؟ دُعا لب پہ عمر بھر آئے
مزا تَو جب ہے دعاؤں میں کچھ اَثَر آئے
جنوں اُنھِیں کا اُنھِیں کی ہُوئیں منازلِ شوق
جو ہر سَفَر میں نیا سنگِ میِل دھَر آئے
نظامِ گلشنِ رَدّ و قبول کو تَو سَمَجھ
جو چاہے نخلِ تمنّا میں کچھ ثَمَر آئے
خلوصِ حُسنِ نَظَر کی فصِیل حائل تھی
بہت خیال نے چاہا مُراد بَر آئے
نہ وہ فضا نہ وہ خوشبُو نہ وہ در و دیوار
ہم اجنبی سے تھے ضامنؔ جب اپنے گھر آئے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s