زندہ ہیں راندۂ درگاہ تمہارے کیسے

پوچھ تو لیتے کہ ہیں درد کے مارے کیسے
زندہ ہیں راندۂ درگاہ تمہارے کیسے
اُن کی نفرت سے ملا میری محبت کو فروغ
رُخ مخالف ہی سہی، تند ہیں دھارے کیسے
لوگ مُنہ سے نہ کہیں دل میں تو سوچیں گے ضرور
ڈوبنے والوں نے پائے تھے سہارے کیسے
اہلِ اخلاص و محبت پہ عنایت کیجے
حسرتِ دید میں بیٹھے ہیں بِچارے کیسے
درد مندانِ محبت کی نہ غایت نہ غرض
کیسے فریاد کرے کوئی پکارے کیسے
بے رُخی ایک محبت ہی کا رُخ ہے ضامنؔ
چشمِ محتاط میں ہوتے ہیں اشارے کیسے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s