رَواجِ سجدہ ہُوا ہے نمازِ عِشق کے بَعد

ہے نازِ حُسن سے پہلے نیازِ عِشق کے بَعد
رَواجِ سجدہ ہُوا ہے نمازِ عِشق کے بَعد
نہ رازِ حُسن کُھلا ہے نہ رازِ حُسنِ نَظَر
اَگَر کُھلے تَو کُھلیں گے یہ رازِ عِشق کے بَعد
نہ جانے حُسن کو اِس کی خَبَر بھی ہے کہ نہیں
جنوں کی آتی ہے مَنزِل فَرازِ عِشق کے بَعد
طَبیِب و حَضرَتِ ناصح، مَسِیحا و ہَمدَم
رَہے ضروری نہ تجھ کارسازِ عِشق کے بَعد
مِزاجِ حُسن کے ضامنؔ یہ کہتے آئے ہیں
یہ راس آتا ہے سوز و گُدازِ عِشق کے بَعد
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s