خود سے ملتا ہوں تو پھر کھُل کے برستا ہوں میں

انجمن ہو تو بہت بولتا ہنستا ہوں میں
خود سے ملتا ہوں تو پھر کھُل کے برستا ہوں میں
دیکھتا رہتا ہوں ملنے کو تَرَستا ہوں میں
یوں گذر جاتے ہو جیسے کوئی رَستا ہوں میں
خواہشِ وصل ہو پہنے ہُوئے پیراہنِ عشق
اِس کو اِخلاص کی تَضحیک سمجھتا ہوں میں
بوالہوس چیَن سے رہتے ہیں خزاں ہو کہ بہار
بوئے گل، بادِ صبا، سب کو تَرَستا ہوں میں
حُسن نے لمس کو معراجِ محبت جانا
ایسے معیار پہ کب پورا اُترتا ہوں میں
عشق دائم ہے اگر وصل کا پابند نہ ہو
جھومتا اَور ہے دل جتنا تڑپتا ہوں میں
حُسن کو ساری روایات سے باغی کردوں
اِس کی تدبیر کوئی دیکھئے کرتا ہوں میں
وہ تو یہ کہیے جنوں میرا مرے کام آیا
پھر بہلتا نہیں ضامنؔ جو مچلتا ہوں میں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s