حفظِ مراتب

احباب و اقربا کا کرم مانتا ہُوں دوست
کس کس کے زیربار ہُوں سب جانتا ہُوں دوست
آئینہ دارِ حفظِ مراتب ہیں زخمِ دل
ہر دست وسنگ و خشت کو پہچانتا ہُوں دوست
بادہ پیماؤں میں نے بادیہ پیماؤں میں
بادہ پیماؤں میں نے بادیہ پیماؤں میں
ہُوں اکیلا ہی میں اَب اَپنے شناساؤں میں
فَرطِ وحشَت میں یہ میری ہی اُڑائی ہوئی ہے
خاک ناپید ہُوا کرتی تھی صحراؤں میں
قحطِ اقدار کے اِس دَور میں حیَرَت کیسی
دھُوپ جیسی ہی تَمازَت ہو اَگَر چھاؤں میں
اِک نظر ڈال دِیا کیجے بَس آتے جاتے
کتنی ترمیم کروں اب میں تمنّاؤں میں
خُود سے بہتر کی نہ تحسیِن پہ مائل ہونا
ناتَوانی کی عَلامَت ہے تَواناؤں میں
ہَم سے مِل لینا کبھی دِل جو پریشان کرے
اُٹّھے بیٹھے ہیں بہت ہَم بھی مسیحاؤں میں
مِل تَو لیتے تھے کَم اَز کَم یُونہی آتے جاتے
ایک پَگڈَنڈی ہُوا کرتی تھی بَس گاؤں میں
مُجھ کو مَنزِل کی لَگَن رُکنے نہ دے گی ضامنؔ
اَب اَگَر پَڑتے ہیں چھالے تَو پَڑیَں پاؤں میں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s