جو بھی کہیے صدا بہ صحرا ہے

دِل ہے کمزور زَخم گہرا ہے
جو بھی کہیے صدا بہ صحرا ہے
خُون بہتا ہے زَخم چیختے ہیں
کوئی اندھا ہے کوئی بہرا ہے
اِدھَر آجائیں جو بھی زندہ ہیں
یہ ہے اِلزام! یہ کٹہرا ہے!
کیسا اِنصاف اُور کہاں کا حَق
ان پہ جمہوریت کا پہرا ہے
چند دِن اَور صبر کر ضامنؔ
کوئی ٹھہرے گا اُور نہ ٹھہرا ہے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s