جس کا ڈر تھا یہ وہ گھڑی ہے میاں

دل لگی، دل کو لگ گئی ہے میاں
جس کا ڈر تھا یہ وہ گھڑی ہے میاں
لوگ کیوں اِس قَدَر سکون سے ہیں ؟
بے حِسی ہے کہ بے رُخی ہے میاں؟
آ رہی ہے تپش مِرے دِل تَک
کیا کہیِں آگ لگ گئی ہے میاں ؟
ہنس رہے ہیں تمام دیوانے
جانے غفلت کہ آگَہی ہے میاں
حادثے نقش ہونا چاہتے ہیں
میری دہلیز دیکھ لی ہے میاں
ڈھونڈتا پھِر رہا ہے دشمن کو
جبکہ دشمن خود آدمی ہے میاں
ضامنؔ! اَللہ دے شفا تُم کو
تُم کو تَو کَربِ آگہی ہے میاں
سہل ہوتا تَو کہہ چکے ہوتے
جیسی بھی ہے گذر رہی ہے میاں
گُل کبھی ہو گیا تھا ایک چراغ
آج تک اُس کی روشنی ہے میاں
اِس مَرَض کا علاج کیسے ہو؟
ہر طرف ایک اَبتَری ہے میاں !
کوچہِ حُسن تَو نہیں یہ جگہ
دیکھی بھالی سی لگ رہی ہے میاں
کوئی پہچان جائے گا ضامنؔ
چُپ رہو یہ وہی گَلی ہے میاں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s