تُو اُن کی بَزم میں کچھ دِن رَہا یہ کم تَو نہیں

شکستِ آرزو اے دِل! کوئی سِتَم تَو نہیں
تُو اُن کی بَزم میں کچھ دِن رَہا یہ کم تَو نہیں
یہ عَکس سازِشِ وقت اَور آئینہ ہے فَقَط
ہمارے دِل نے ہمیشہ کَہا یہ ہم تَو نہیں
ابھی تَلَک وہی سرشاریٔ رفاقَت ہے
دِلِ شکستہ سے پوچھا تھا کوئی غَم تَو نہیں ؟
دِل و نَظَر بھی وہی کام کرتے آئے ہیں
جنابِ خضر کوئی خاص مُحترَم تَو نہیں
خَموش بیٹھے ہیں ضامنؔ وہ سَر جُھکائے ہُوئے
نَظَر اُٹھائیں تَو دیکھوں کہ آنکھ نَم تَو نہیں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s