تمام شہر جَلا اُس کے گھر کا ذکر نہیں

امیرِ شہر کے دستِ ہُنَر کا ذکر نہیں
تمام شہر جَلا اُس کے گھر کا ذکر نہیں
پڑھا ہے ہم نے بہت ہاتھ کی لکیروں کو
کِسی معاہدہِ خَیر و شَر کا ذکر نہیں
تمہارے حُسن کی تاریخ نامکمّل ہے
کسی جگہ مرے حُسنِ نظر کا ذکر نہیں
صلیب و دار کے سائے میں ہے تمام سَفَر
میں جس سَفَر میں ہُوں اُس میں شَجَر کا ذکر نہیں
تمہاری سنگ دِلی کی گواہ ہے تاریخ
کسی وَرَق پہ کَہیِں در گُزر کا ذکر نہیں
بہت عجیب ہیں دیدہ وَران نَو ضامنؔ
نظر کا زعم ہے اہلِ نظر کا ذکر نہیں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s