تحلیلِ نفسی

یہ چاہت ہے؟محبت ہے؟جُنونِ عشق ہے؟کیا ہے؟
زمانہ بھر ہے آمادہ، مری تحلیلِ نفسی پرمگر فرصت کسے اِتنی؟
کہ وہ کچھ فیصلہ کرنے سے پہلے، مجھ سے بھی پوچھے
کہ حسن و عشق کے بارے میں میرا کیا تصور ہے؟
کوئی سننے پہ راضی ہو تو بس یہ عرض کرنا ہے
مرے جذبات کی دنیا میں ، جو آئین نافذ ہے
نگاہِ بے ریا،بے لوث دل اور جرأ تِ اِخلاص نے، مل کر بنایا ہے
مری دنیا میں بس اِن تین کی فرماں روائی ہے
نگاہوں میں کوئی خواہش نہیں ہے، اُس کو پانے کی
غبارِ آرزوسےدامنِ دل پاک ہے میرا
خلوصِ عشقیہ رَس گھولتا رہتا ہے، کانوں میں
اگر دل میں اُسے پانے کی خواہش ہے تو یہ ملحوظِ خاطررکھ
کہ خواہش کو محبت کہہ نہیں سکتے
حریر و شعلۂ جوّالہ کو آپس میں کیا نسبت؟محبت اور خواہش کا ہو سنگم!کیسے ممکن ہے؟
گر ایسا ہے، تو پھر ضامنؔ!
ضرورت نےغرض نےیا، ہَوَس نے بھیس بدلا ہے
یہ زک دینے کی سازش ہے،
خلوصِ عشق کو میرے،
مر ے حسنِ محبت کو
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s