بیادِ سیّد ضمیر جعفری

﴿﴾

اے اجل! نابغۂ عصر کو مارا کیسے؟

یہ ستم تو نے کیا ہو گا، گوارا کیسے؟

جس کو احباب نے کاندھوں پہ اُٹھایا تھا سدا

اُس کو مٹّی میں ملانے کو، اُتارا کیسے؟

﴿﴾

دلوں کو مہر و محبت سے تابناک کیا

ضمیرِ اہلِ وطن، نفرتوں سے پاک کیا

وہ ایسا شخص تھا، جو اسم با مسمّیٰ تھا

خبر ہے دوستو! کس کو سپردِ خاک کیا

﴿﴾

ہر انجمن سے دُکھے دلوں کے غم و الم سب بھلا کے اُٹھّا

وہ چشمِ بیخواب کو ہمیشہ ، سکون د ےکر، سُلا کر اُٹھّا

بھلا میں اب کیا کہو نگا ضاؔ من! صفیؔ یہ پہلے ہی کہہ گئے ہیں

"ستم ظریفی تو کوئی دیکھے، ہنسانے والا رُولا کے اُٹھّا”

ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s