اَیسی فَرسُودہ رسومات کو اَب رہنے دو

جو بھی دِل میں ہے کَہو، پاسِ اَدَب رہنے دو
اَیسی فَرسُودہ رسومات کو اَب رہنے دو
تِیر کِس سمت سے آیا ہے یہی کافی ہے
تِیر اَنداز کا اَب نام و نَسَب رہنے دو
مُجھ سے اُترے ہوئے چہرے نہیں دیکھے جاتے
کوئی پُوچھے بھی تَو کہتا ہُوں ، سَبَب رہنے دو
جِس کو خُورشیدِ قَیامَت سے اُجالا نہ مِلے
کیا عَجَب گَر وہ کہے ظُلمَتِ شَب رہنے دو
دِل کا اصرار ہے جو دِل میں ہے کہہ دُوں اُن سے
ذہن کہتا ہے، وہ اَب وہ نہیں ، اَب رہنے دو
کون رکھتا ہے رہ و رَسمِ زمانہ کا خیال
صِرف کہنے کی یہ باتیں ہیں ، یہ سَب رہنے دو
مُجھ کو طُوفاں نے ڈبویا نہیِں ، خُود ڈُوبا ہُوں
اہلِ ساحِل سے کہو جَشنِ طَرَب رہنے دو
عَکسِ قاتِل نَظَر آجائے نہ زَخموں میں کہیِں
جیسے مَقتَل میں پَڑا ہُوں اسی ڈَھَب رہنے دو
قحطِ اَقدار میں یہ مِہر و مُرَوَّت، ضامنؔ!
کیا ضرورَت ہے تکلّف کی یہ سَب رہنے دو
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s