اَب ہَم رَہیں گے کوچہِ قاتل کے آس پاس

منصف کے آس پاس نہ عادل کے آس پاس
اَب ہَم رَہیں گے کوچہِ قاتل کے آس پاس
اے عافیَت نَشیں ! میں وہ طُوفاں پَسَند ہُوں
پَھٹکا تَلَک نہیں کبھی ساحِل کے آس پاس
واقِف ہیں اِن امُور سے ہَم، ہَم سے پُوچھنا
محسوس گَر ہو دَرد کبھی دِل کے آس پاس
دِیوانہ ہَنس رَہا ہے، تصوّر کا فیض ہے
چہرا ہے کوئی، شورِ سَلاسِل کے آس پاس
آسُودَگانِ عِشق سے پوچھو کہ لُطفِ زِیست
مَنزِل پہ ہے زِیادَہ کہ مَنزِل کے آس پاس
شاخَیں شکستہ بَرگ پَریشاں چمن اُداس
ہَر سمت، پَر ہی پَر ہیں عنادِل کے، آس پاس
خُوشیوں کی بَزم سے ہَم اَبھی ہو کے آئے ہیں
کوئی نہ کوئی غَم تھا ہَر اِک دِل کے آس پاس
دِلدادگانِ عِشق کو کیا فکرِ قید و بَند
رُک جاتے ہیں یہ خُود ہی سَلاسِل کے آس پاس
یارب! جہانِ حُسن ہو ضامنؔ پَہ مہرباں
کوئی حَسین آ بَسے سائل کے آس پاس
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s