انجمن میں کھا گیا احساسِ تنہائی مجھے

یہ ہُوا مانع کسی کا پاسِ رُسوائی مجھے
انجمن میں کھا گیا احساسِ تنہائی مجھے
اے دیارِ حسن! لے آئی تھی امّیدِ وفا
تیری دنیا میں وہی عنقا نظر آئی مجھے
زندگی بھر ٹھوکریں تھیں مَر کے زیبِ دوش ہُوں
مل گئے کیسے اچانک اتنے شیدائی مجھے
وہ جنوں پَروَر تھے یہ عقدہ تَو آخر میں کھُلا
کر گئی دَر گور ناصح تیری دانائی مجھے
حسن کی پیہم ادائے ناز پر قدغن نہیں
دیتے ہیں ضامنؔ سبھی درسِ شکیبائی مجھے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s