یاد آئے پھر کتنے زمانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں

رات ملے کچھ یار پرانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
یاد آئے پھر کتنے زمانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
کتنے رنگا رنگ مسافر شانہ بہ شانہ رقص کناں
چھوڑ گئے کتنے افسانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
اِن ہنستے ہونٹوں کے پیچھے کتنے دُکھ ہیں ہم سے پوچھ
ہم نے دیکھے ہیں ویرانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
میخواروں کی صف سے پرے کچھ ایسے عالی ظرف بھی تھے
بھر نہ سکے جن کے پیمانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
میں کس کارن پچھلے پہر تک تنہا بیٹھا رہتا ہوں
کون میرے اِس دَرد کو جانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
یہ کیا حال بنا لائے یہ کیسا روگ لگا لائے
تم تو گئے تھے جی بہلانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
ناصر تم لوگوں سے چھپ کر چپکے چپکے رات گئے
کیوں جاتے ہو جی کو جلانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s