ہر محاذِ جنگ پر

اے خدائے دو جہاں

تیرے حکم سے بہار اور خزاں

تو نے خاکِ مردہ کو شجر دیے

رَس بھرے ثمر دیے

بحر کو صدف، صدف کو بے بہا گہر دیے

تازہ موسموں کے ساتھ

طائروں کو تازہ بال و پر دیے

بے گھروں کو گھر دیے

اے مرے کریم رب!

کس زباں سے تیرا شکر ہو ادا

تو نے ہم کو یہ نیا وطن دیا

ہم نے یہ نیا وطن ترے ہی نام پر لیا

اس نئے چمن میں کتنے رنگ رنگ پھول ہیں

کیسے کیسے شہر اور کیسے کیسے لوگ ہیں

کیسے کیسے شاعر اور نغمہ گر

کتنے اہلِ علم اور باکمال

کس قدر جری دلیر نوجواں

جن کے دل سے جاوداں ہے اس چمن کی داستاں

اے مرے کریم ربّ تو نے اپنے بندوں کو ہزارہا ہنر دیے

اور مجھے قلم دیا

اے علیم تیرے عِلم کے حضور

میرے عِم اور ہنر کی کیا بساط

آج مجھ کو اتنی مہلت اَور دے کہ لکھ سکوں وہ داستاں

جو اپنے خوں سے لکھ رہے ہیں سرحدوں کے پاسباں

یہ صف شکن دلیر ہیں مرے قلم کی آبرو

انہی کے دَم سے آج پھر مرا قلم ہے سرخرو

قلم جو لفظِ تازہ کا شکاری تھا

قلم جو حرف و صوت کا پجاری تھا

وہی قلم بلند ہو کے اب جہاد کا علم بنا

وہی قلم مجاہدوں کے ہاتھ میں وہ برقِ شعلہ خو بنا

جو دُشمنوں کی صف پہ ٹوٹ ٹوٹ کر گرا

اب اپنے کاغذوں پہ چشمِ خوں فشاں کا نم نہیں

اب اپنے کاغذوں پہ جاتے موسموں کا غم نہیں

یہ کاغذ اپنے ہاتھ میں وہ کار گاہِ رزم ہے

جہاں پہ فتحِ قوم کا نشان میری نظم ہے

یہ کاغذ اپنے ہاتھ میں وہ بحر بے کنار ہے

جہاں ہر ایک موج فتح مند ذوالفقار ہے

یہ کاغذ اپنے ہاتھ میں ہے وہ فضائے بیکراں

جہاں ہوا کے پاسباں ہیں ہر طرف شررفشاں

مرے قلم کی روشنائی تیرگی کو زہر ہے

مرے قلم کے سحر سے چھڑی ہے داستان،

رزمِ خندق و حنین کی

علیؓ کی ذُوالفقار سے جو بچ گئے

وہ زد میں ہیں حسینؓ کی

مرے قلم وہ معرکے دکھا مجھے

جہاں ہمارے غازیوں نے ظلم وجور کے ہر اِک نشان کو مٹا دیا

مری جبیں کی ہر شکن کو زندہ کر

کہ اب عدو ہماری تیغِ ضوفشاں کی زد میں ہے

مرے یقیں کو تازہ کر

کہ اب عدو ہماری ضربِ جاوداں کی زد میں ہے

یہ جنگ آج کفر و دیں کی جنگ ہے

یہ میری قوم کے یقیں کی جنگ ہے

یہ میری پاک سر زمیں کی جنگ ہے

یہ جنگ آج حق پرست ملتوں کی جنگ ہے

یہ جنگ آج صلح جو صداقتوں کی جنگ ہے

ترے کرم سے اے مرے کریم ربّ

مرا قلم ہے سرخرو

مرا قلم ہے میرے فن کی آبرو

مری صدا میں آج آتے موسموں کا نور ہے

مری نوا میں آج صبحِ فتح کا ظہور ہے

کہ میری پاک سر زمیں کا

ایک ایک فرد پوری قوم ہے

پوری قوم آج ایک فرد ہے

عدو کا رنگ زرد ہے

مرا وطن یونہی رہے گا تا ابد

مرا چمن یونہی رہے گا تا ابد

ارضِ پاک تیرے صبر کی قسم!

تیرے غازیوں ، شہیدوں کی قسم!

جب تلک ہے دَم میں دَم

جب تلک ہے اپنی سرحدوں پہ یورشِ ستم

عدو سے پنجہ آزما رہیں گے ہم

ہر محاذِ جنگ پر

قلب وچشم وگوش کے محاذ پر

عقل وتاب وہوش کے محاذ پر

خواب اور خیال کے محاذ پر

شعر اور ساز کے محاذ پر

شہر شہر گاؤں گاؤں

گلیوں اور کھیتوں میں

جنگلوں ، پہاڑوں میں

وادیوں ، جزیروں اور جھیلوں میں

میگھنا سے راوی تک

سبز اور سنہرے دیس کے چمکتے رمنوں میں

نشر گاہوں ، درس گاہوں

کارخانوں ، دفتروں میں اور گھروں میں

بحروبر میں اور فضا میں

دُشمنوں کے راستوں میں

دشمنوں کی بستیوں میں

ہر نئے محاذ پر

ہر محاذِ جنگ پر

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

(۱۲ دسمبر ۱۹۷۱ ۔ لاہور ٹی وی)

ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s