کنج قفس میں سن لیتے ہیں بھولی بسری باتوں کو

دورِ فلک جب دُہراتا ہے موسمِ گل کی راتوں کو
کنج قفس میں سن لیتے ہیں بھولی بسری باتوں کو
ریگِ رواں کی نرم تہوں کو چھیڑتی ہے جب کوئی ہوا
سونے صحرا چیخ اُٹھتے ہیں آدھی آدھی راتوں کو
آتشِ غم کے سیلِ رواں میں نیندیں جل کر راکھ ہوئیں
پتھر بن کر دیکھ رہا ہوں آتی جاتی راتوں کو
میخانے کا افسردہ ماحول تو یونہی رہنا ہے
خشک لبوں کی خیر مناؤ کچھ نہ کہو برساتوں کو
ناصرؔ میرے منہ کی باتیں یوں تو سچے موتی ہیں
لیکن اُن کی باتیں سن کر بھول گئے سب باتوں کو
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s