کم سخن محفلِ سخن میں آ

بے حجابانہ انجمن میں آ
کم سخن محفلِ سخن میں آ
اے مرے آہوے رمیدہ کبھی
دل کے اُجڑے ہوے ختن میں آ
دل کہ تیرا تھا اب بھی تیرا ہے
پھر اسی منزلِ کہن میں آ
اے گلستانِ شب کے چشم و چراغ
کبھی اُجڑے دلوں کے بن میں آ
کبھی فرصت ملے تو پچھلے پہر
شب گزیدوں کی انجمن میں آ
صبحِ نورس کی آنکھ کے تارے
چاند مرجھا گیا گہن میں، آ
رنگ بھر دے اندھیری راتوں میں
جانِ صبحِ وطن! وطن میں آ
پھول جھڑنے کی شام آ پہنچی
نو بہارِ چمن! چمن میں آ
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s