پیامِ حق کا تمھیں منتہی سمجھتے ہیں

پیامِ حق کا تمھیں منتہی سمجھتے ہیں

تمھاری یاد کو ہم زندگی سمجھتے ہیں

تمھارے نور سے معمور ہیں وجود و عدم

اسی چراغ کو ہم روشنی سمجھتے ہیں

قدم پڑا ہے جہاں آپ کے غلاموں کا

ہم اُس زمین کو تختِ شہی سمجھتے ہیں

یہ آپ ہی کا کرم ہے کہ آج خاک نشیں

مقامِ بندگی و قیصری سمجھتے ہیں

سمجھ سکیں گے وہ کیا رُتبہِ نبیِؐ کریم

جو آدمی کو فقط آدمی سمجھتے ہیں

ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s