وہ روشنی تھی کہ صورت نظر نہ آتی تھی

شعاعِ حسن ترے حسن کو چھپاتی تھی
وہ روشنی تھی کہ صورت نظر نہ آتی تھی
کسے ملیں کہاں جائیں کہ رات کالی ہے
وہ شکل ہی نہ رہی جو دِیے جلاتی تھی
وہی تو دِن تھے حقیقت میں عمر کا حاصل
خوشا وہ دِن کہ ہمیں روز موت آتی تھی
ذرا سی بات سہی تیرا یاد آجانا
ذرا سی بات بہت دیر تک رُلاتی تھی
اُداس بیٹھے ہو کیوں ہاتھ توڑ کر ناصر
وہ نے کہاں ہے جو تاروں کی نیند اُڑاتی تھی
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s