نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی

کب تلک مدعا کہے کوئی
نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی
غیرتِ عشق کو قبول نہیں
کہ تجھے بے وفا کہے کوئی
منّتِ ناخدا نہیں منظور
چاہے اس کو خدا کہے کوئی
ہر کوئی اپنے غم میں ہے مصروف
کس کو درد آشنا کہے کوئی
کون اچھا ہے اِس زمانے میں
کیوں کسی کو برا کہے کوئی
کوئی تو حق شناس ہو یارب
ظلم کو ناروا کہے کوئی
وہ نہ سمجھیں گے اِن کنایوں کو
جو کہے برملا کہے کوئی
آرزُو ہے کہ میرا قصّہِ شوق
آج میرے سوا کہے کوئی
جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر
کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s