میں اک بستی میں اُترا تھا

چھوٹی رات سفر لمبا تھا
میں اک بستی میں اُترا تھا
سرما ندی کے گھاٹ پہ اُس دن
جاڑے کا پہلا میلا تھا
بارہ سکھیوںں کا اک جھرمٹ
سیج پہ چکر کاٹ رہا تھا
نئی نکور کنواری کلیاں
کورا بدن کورا چولا تھا
دیکھ کے جوبن کی پھلواری
چاند گگن پر شرماتا تھا
پیٹ کی ہری بھری کیاری میں
سرج مکھی کا پھول کھلا تھا
ماتھے پر سونے کا جھومر
چنگاری کی طرح اُڑتا تھا
بالی رادھا بالا موہن
ایسا ناچ کہاں دیکھا تھا
کچھ یادیں کچھ خوشبو لے کر
میں اُس بستی سے نکلا تھا
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s