مہکتے میٹھے دریاؤں کا پانی

سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
مہکتے میٹھے دریاؤں کا پانی
یہاں جنگل تھے آبادی سے پہلے
سنا ہے میں نے لوگوں کی زبانی
یہاں اِک شہر تھا شہرِ نگاراں
نہ چھوڑی وقت نے اُس کی نشانی
میں وہ دل ہوں دبستانِ اَلم کا
جسے روئے گی صدیوں شادمانی
تصوّر نے اُسے دیکھا ہے اکثر
خرد کہتی ہے جس کو لامکانی
خیالوں ہی میں اکثر بیٹھے بیٹھے
بسا لیتا ہوں اِک دنیا سہانی
ہجومِ نشہِ فکرِ سخن میں
بدل جاتے ہیں لفظوں کے معانی
بتا اے ظلمتِ صحرائے اِمکاں
کہاں ہو گا مرے خوابوں کا ثانی
اندھیری شام کے پردوں میں چھپ کر
کسے روتی ہے چشموں کی روانی
کرن پریاں اُترتی ہیں کہاں سے
کہاں جاتے ہیں رستے کہکشانی
پہاڑوں سے چلی پھر کوئی آندھی
اُڑے جاتے ہیں اوراقِ خزانی
نئی دُنیا کے ہنگاموں میں ناصر
دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s