مطلعِ اوّل

ہر کوچہ اِک طلسم تھا ہر شکل موہنی

قصہ ہے اس کے شہر کا یارو شنیدنی

تھا اِک عجیب شہر درختوں کی اوٹ میں

اب تک ہے یاد اس کی جگا جوت روشنی

سچ مچ کا اِک مکان پرستاں کہیں جسے

رہتی تھی اس میں ایک پری زاد پدمنی

اُونچی کھلی فصیلیں ، فصیلوں پہ برجیاں

دیواریں سنگِ سرخ کی ، دروازے چندنی

جھل جھل جھلک رہے تھے پسِ چادرِ غبار

خیمے شفق سے لال ، چتر تخت کندنی

فوّارے چھوٹتے ہوئے مر مر کے صحن میں

پھیلی تھی جس کے گرد گلِ بانس کی بنی

ہر بوستاں کے پھول تھے اس عیش گاہ میں

ہر دیس کے پرندوں نے چھائی تھی چھاؤنی

جھرمٹ کبوتروں کے اُترتے تھے رنگ رنگ

نیلے ، اُجال ، جوگیے ، گلدار ، کاسنی

پٹ بیجنا سی انکھڑیاں گلِ چاندنی سے تاج

چونچوں میں خس کی تیلیاں پنجوں میں پینجنی

سارنگیاں سی بجتی تھیں جب کھولتے تھے پر

یکبار گونج اُٹھتی تھی سنسان کنگنی

اِستادہ اصطبل میں سبک سیر گھوڑیاں

ٹاپوں میں جن کی گرد ہو گردونِ گردنی

رہتی تھی اس نواح میں ایسی بھی ایک خلق

پوشاک جس کی دُھوپ تھی، خوراک چاندنی

کل رات اس پری کی عروسی کا جشن تھا

دیکھی تھی میں نے دُور سے بس اس کی روشنی

ہر ملک ہر دیار کے خوش وضع میہماں

بیٹھے تھے زیبِ تن کیے ملبوس درشنی

جلنے لگیں درختوں میں خوشبو کی بتیاں

پھر چھیڑ دی ہوائے نیستاں نے سمفنی

ہاتھوں میں رنگترے لیے سر پر صراحیاں

کچی نکور باندیاں نکلیں بنی ٹھنی

کشمش ، چھوارے ، کاغذی بادام ، چار مغز

رکھے تھے رنگ رنگ کے میوے چشیدنی

مرغابیاں تلی ہوئیں ، تیتر بھنے ہوئے

خستہ کباب سیخ کے اور نان روغنی

صندل، کنول، سہاگ پڑا ، سہرا ، عطر ، پھول

لائی سجا کے تھال میں اک شوخ کامنی

شیشے اُچھال اُچھال کے گاتے تھے مغچے

بیٹھی تھی شہ نشین پہ اک دختِ اَرمنی

رقاصِ رنگ ناچتے پھرتے تھے صف بہ صف

دُولہا بنا گلال ، بسنتی دُلہن بنی

سازوں کی گت پلٹ گئی ، طبلے ٹھٹک گئے

پی کر شراب ناچ رہی تھی وہ کنچنی

انگارہ سا بدن جو دَمکتا تھا بار بار

گل منہ پہ ڈھانپ لیتے تھے کرنوں کی اوڑھنی

ہر دانگ باجنے لگے باجے نشاط کے

مردنگ ، ڈھول ، تان پرا ، سنکھ سنکھنی

آکاش سے برس پڑے رنگوں کے آبشار

نیلے ، سیہ ، سفید ، ہرے ، لال ، جامنی

اتنے میں ایک کفرِ سراپا نظر پڑا

پھرتی تھی ساتھ ساتھ لگی جس کے چاندنی

ماتھے پہ چاند ، کانوں میں نیلم کی بالیاں

ہاتھوں میں سرخ چوڑیاں ، شانوں پہ سوزنی

پلکیں دراز خطِ شعاعی سی تیز تیز

پتلی ہر ایک آنکھ کی ہیرے کی تھی کنی

ٹھوڑی وہ آئنہ سی کہ بس دیکھتے رہیں

جوبن کے گھاٹ پر وہ کنول دو شگفتنی

گردن بھڑکتی لو سی کہ جی چاہے جل مریں

کالے سیاہ بال کہ بدمست ناگنی

وہ اُنگلیاں شفق سی کہ ترشے ہوئے قلم

اُجلے روپہلے گال کہ ورقے نوشتنی

کندن سا رُوپ ، دھوپ سا چہرہ ، پون سی چال

دامن کشیدنی ، لب و عارض چشیدنی

صورت نظر نواز ، طبیعت ادا شناس

سو حسن ظاہری تو کئی وصف باطنی

پردے اُٹھا دیے تھے نگاہوں نے سب مگر

دل کو رہا ہے شکوئہ کوتاہ دامنی

اُڑ اُڑ کے راج ہنسوں نے جنگل جگا دیا

گھوڑوں کی رَتھ میں بیٹھ گئے جب بنا بنی

منہ دیکھتے ہی رہ گئے سب ایک ایک کا

منہ پھیر کر گزر گئی وہ راج ہنسنی

منظر مجھے ہوس نے دکھائے بہت مگر

ٹھہرا نہ دل میں حسن کا رنگِ شکستنی

تارا سحر کا نکلا تو ٹھنڈی ہوا چلی

نیند آ گئی مجھے کہ وہاں چھاؤں تھی گھنی

ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s