لب پہ مشکل سے تری بات آئی

یہ بھی کیا شامِ ملاقات آئی
لب پہ مشکل سے تری بات آئی
صبح سے چپ ہیں ترے ہجر نصیب
ہائے کیا ہو گا اگر رات آئی
بستیاں چھوڑ کے برسے بادل
کس قیامت کی یہ برسات آئی
کوئی جب مل کے ہوا تھا رخصت
دلِ بے تاب وہی رات آئی
سایۂ زلفِ بتاں میں ناصرؔ
ایک سے ایک نئی رات آئی
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s