رات کا جادُو بکھر کر رہ گیا

صبح کا تارا اُبھر کر رہ گیا
رات کا جادُو بکھر کر رہ گیا
ہمسفر سب منزلوں سے جا ملے
میں نئی راہوں میں مر کر رہ گیا
کیا کہوں اب تجھ سے اے جوئے کم آب
میں بھی دریا تھا اُتر کر رہ گیا
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s