جانے کیا اضطراب میں دیکھا

شعلہ سا پیچ و تاب میں دیکھا
جانے کیا اضطراب میں دیکھا
گل کدوں کے طلسم بھول گئے
وہ تماشا نقاب میں دیکھا
آج ہم نے تمام حسنِ بہار
ایک برگِ گلاب میں دیکھا
سر کھلے، پا برہنہ، کوٹھے پر
رات اُسے ماہتاب میں دیکھا
فرصتِ موسمِ نشاط نہ پوچھ
جیسے اِک خواب، خواب میں دیکھا
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s