تو ہے دِلوں کی روشنی تو ہے سحر کا بانکپن

تو ہے دِلوں کی روشنی تو ہے سحر کا بانکپن

تیری گلی گلی کی خیر اے مِرے دل رُبا وطن

پھول ہیں تیرے ماہتاب ذرّے ہیں تیرے آفتاب

تیرے ایک رنگ میں تیری بہار کا شباب

داغِ خزاں سے پاک ہے تیرے چمن کا پیرہن

تیری گلی گلی کی خیر اے مِرے دل رُبا وطن

تیرے علم ہیں سربلند عرصہِ کارزار میں

تیرے جواں ہیں سربکف وادی و کوہسار میں

اَبر و ہوا کے ہم قدم تیرے دلیر صف شکن

تیری گلی گلی کی خیر اے مرے دل رُبا وطن

تیری ہوائیں مشکبو تیری فضائیں گلفشاں

تیرے ستارہ و ہلال عظمت و امن کا نشاں

دُھوم تری نگر نگر شان تری دمن دمن

تیری گلی گلی کی خیر اے مرے دل رُبا وطن

(۹ نومبر ۱۹۶۵ ۔ بسنت بہار۔ آوازیں ۔ اُستاد نزاکت علی خاں ، سلامت علی خاں ۔ طبلے پر سنگت —- شوکت حسین)

ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s