تزئینِ کائنات برنگِ دِگر ہے آج

تزئینِ کائنات برنگِ دِگر ہے آج

جشنِ ولادتِ شہِ جن و بشر ہے آج

صدیوں سے فرشِ راہ تھے جس کے لیے نجوم

آغوشِ آمنہ میں وہ رشکِ قمر ہے آج

صبح ازل کو جس نے دیا حسنِ لازوال

وہ موجِ نور زینتِ دیوار و در ہے آج

کس کے قدم سے چمکی ہے بطحا کی سر زمیں

ظلمت کدوں میں شورِ نویدِ سحر ہے آج

اے چشمِ شوق شوکتِ نظارہ دیکھنا

ماہِ فلک چراغِ سرِ رہ گزر ہے آج

شوقِ نظارہ نے وہ تراشا ہے آئنہ

جس آئنے میں جلوہِ آئینہ گر ہے آج

جچتی نہیں نگاہ میں دُنیا کی رونقیں

کیا پوچھتے ہو دھیان ہمارا کدھر ہے آج

ناصر درِ حضورؐ سے جو چاہو مانگ لو

وا خاص و عام کے لیے بابِ اثر ہے آج

(۱۹ مئی ۱۹۷۰)

ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s