تر آنکھ کروں معدِن گوہر کھل جائے

تر آنکھ کروں معدِن گوہر کھل جائے
تر آنکھ کروں معدِن گوہر کھل جائے
تر آنکھ کروں معدِن گوہر کھل جائے
لوں سانس تو دروازہِ خاور کھل جائے
چپ بیٹھا ہوں مجلس میں عزا کی لیکن
رُومال ہٹاؤں تو سمندر کھل جائے
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s