ترا دل گداز ہو کس طرح یہ ترے مزاج کی لے نہیں

تو اسیرِ بزم ہے ہم سخن تجھے ذوقِ نالہِ نے نہیں
ترا دل گداز ہو کس طرح یہ ترے مزاج کی لے نہیں
ترا ہر کمال ہے ظاہری ترا ہر خیال ہے سرسری
کوئی دل کی بات کروں تو کیا ترے دل میں آگ تو ہے نہیں
جسے سن کے رُوح مہک اُٹھے جسے پی کے درد چہک اُٹھے
ترے ساز میں وہ صدا نہیں ترے میکدے میں وہ مے نہیں
کہاں اب وہ موسمِ رنگ و بو کہ رگوں میں بول اُٹھے لہو
یونہی ناگوار چبھن سی ہے کہ جو شاملِ رگ وپے نہیں
ترا دل ہو درد سے آشنا تو یہ نالہ غور سے سن ذرا
بڑا جاں گسل ہے یہ واقعہ یہ فسانہِ جم و کے نہیں
میں ہوں ایک شاعرِ بے نوا مجھے کون چاہے مرے سوا
میں امیرِ شام و عجم نہیں میں کبیرِ کوفہ و رَے نہیں
یہی شعر ہیں مری سلطنت اِسی فن میں ہے مجھے عافیت
مرے کاسہِ شب و روز میں ترے کام کی کوئی شے نہیں
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s