تاروں کا جنگل جلتا تھا

چاند ابھی تھک کر سویا تھا
تاروں کا جنگل جلتا تھا
پیاسی کونجوں کے جنگل میں
میں پانی پینے اُترا تھا
ہاتھ ابھی تک کانپ رہے ہیں
وہ پانی کتنا ٹھنڈا تھا
آنکھیں اب تک جھانک رہی ہیں
وہ پانی کتنا گہرا تھا
جسم ابھی تک ٹوٹ رہا ہے
وہ پانی تھا یا لوہا تھا
گہری گہری تیز آنکھوں سے
وہ پانی مجھے دیکھ رہا تھا
کتنا چپ چپ کتنا گم سم
وہ پانی باتیں کرتا تھا
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s