بیِتے لمحوں کی جھانجھن

ساری رات جگاتی ہے
بیِتے لمحوں کی جھانجھن
لال کھجوروں نے پہنے
زرد بگولوں کے کنگن
چلتا دریا، ڈھلتی رات
سن سن کرتی تیز پون
ہونٹوں پر برسوں کی پیاس
آنکھوں میں کوسوں کی تھکن
پہلی بارش، میں اور تو
زرد پہاڑوں کا دامن
پیاسی جھیل اور دو چہرے
دو چہرے اور اِک درپن
تیری یاد سے لڑتا ہوں
دیکھ تو میرا پاگل پن
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s