بس یونہی رستا بھول گیا تھا

مجھ کو اور کہیں جانا تھا
بس یونہی رستا بھول گیا تھا
دیکھ کے تیرے دیس کی رچنا
میں نے سفر موقوف کیا تھا
کیسی اندھیری شام تھی اُس دن
بادل بھی گھر کر چھایا تھا
رات کی طوفانی بارش میں
تو مجھ سے ملنے آیا تھا
ماتھے پر بوندوں کے موتی
آنکھوں میں کاجل ہنستا تھا
چاندی کا اک پھول گلے میں
ہاتھ میں بادل کا ٹکڑا تھا
بھیگے کپڑے کی لہروں میں
کندن سونا دمک رہا تھا
سبز پہاڑی کے دامن میں
اُس دن کتنا ہنگامہ تھا
بارش کی ترچھی گلیوں میں
کوئی چراغ لیے پھرتا تھا
بھیگی بھیگی خاموشی میں
مَیں ترے گھر تک ساتھ گیا تھا
ایک طویل سفر کا جھونکا
مجھ کو دُور لیے جاتا تھا
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s