آنکھ رکھتا ہے تو پہچان مجھے

قہر سے دیکھ نہ ہر آن مجھے
آنکھ رکھتا ہے تو پہچان مجھے
یک بیک آ کے دکھا دو جھمکی
کیوں پھراتے ہو پریشان مجھے
ایک سے ایک نئی منزل میں
لیے پھرتا ہے ترا دھیان مجھے
سن کے آوازۂ گل کچھ نہ سنا
بس اُسی دن سے ہوے کان مجھے
جی ٹھکانے نہیں جب سے ناصر
شہر لگتا ہے بیابان مجھے
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s